اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مانی محرابی نے" سعودی عرب اور وہ گٹھ بندھن جو کبھی نہیں ہو پائے گا " کے عنوان کے تحت اپنے مراسلے میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : مشرق وسطی کے حالیہ واقعات نے کہ جن میں علاقے اور علاقے سے باہر ایران اور اس کے اتحادیوں کی فوجی اور سیاسی ترقی ، سعودی عرب کا یمن اور شام میں اپنے کسی فوجی مقصد کو حاصل نہ کر پانا ہے ، ملک سلمان کواس حالت سے باہر نکلنے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ سعودیہ والے اس آگاہی کے ساتھ کہ مشرق وسطی کے سلسلے میں امریکہ کی سیاست تبدیل ہو چکی ہے ، اور اس کے ساتھ ہی ریاض کے موقف میں بھی تبدیلی آئی ہے ،اس کوشش میں ہیں کہ اپنے قدیمی ساتھی کی غیر موجودگی کے خلاء کو پر کرنے کے لیے سرحد سے باہر اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک نیا گٹھ بندھن تشکیل دیں ۔
اس علاقائی گٹھ بندھن کو تشکیل دینے کے لیے سعودیہ کے پاس ترکی اور مصر جیسے دو مہرے ہیں تا کہ پہلی فرصت میں مشرق وسطی میں ایران اور روس کے نفوذ کو روکا جائے اور اس کے بعد سعودی پالیسیوں کے لیے ایک طرح کا بین الاقوامی جواز فراہم کیا جائے ۔ ایسا جواز کہ یمن ،شام ،اور بحرین کے بحران نے جس کو ناقابل تلافی حد تک نقصان پہنچایا ہے ۔
لیکن یہ گٹھ بندھن کہ سعودیہ جس کے خواب دیکھ رہا ہے اس کی راہ میں چند بنیادی مشکلیں ہیں ۔
دوسری عثمانی امپراطوری کے خواب کو شرمندہء تعبیر کرنے کی خاطر اپنی اونچی اڑان بھرنے کے لیے اردوغان کو مشرق وسطی میں بنیاد پرست اسلام پسند گروہوں جیسے اخوان المسلمیں ، حماس ، اور جبہۃ النصرہ کی شدید ضرورت ہے ،اور ان حالات میں کہ سیسی کی حکومت کی ماہیت ان گروہوں کی مخالفت پر استوار ہے ۔ آنکارا کی اخوان المسلمین اور حماس کی آشکارا حمایت کو دیکھتے ہوئے اور حکومت کو لے کر مصر کی فوج اور اخوان المسلمین میں جدال کے مد نظر مصر اور ترکی کی سیاست میں بعد مشرقینی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ جس کا حل ملک سلمان کی اس گٹھ بندھن کی تشکیل کی راہ میں پہلی مشکل ہے ۔
ترکی اور ایران کا دوستانہ رابطہ ، ایران کی توانائی کی سیاست اور اقتصادی سیاست کا ترکی کے لیے نفع بخش ہو نا ، یہ تین عامل ایسے ہیں کہ جو ترکی کو ایران کے خلاف براہ راست محاذ آرائی کرنے سے روکتے ہیں ۔۔ تہران ،آنکارا کو گیس ، بجلی اور تیل بھاری مقدار میں فراہم کر تا ہے۔ اور آنکارا بھی ایران کے یورپ تک پہنچنے کے راستے کا میزبان ہے اور ساتھ ہی ترکی بڑے پیما نے پر ایران کے صنایع میں سرمایہ لگانے پر مایل ہونے کی وجہ سے ایران کے ساتھ وابستہ ہے ۔ دوسری طرف علاقائی گٹھ بندھن قائم کرنے کا ریاض کا ایک اصلی مقصد ایران کو مشکل میں ڈالنا اور اس کے سات مقابلہ کرنا ہے اور مذکورہ بالا شرائط کے ہوتے ہوئے تہران کے سلسلے میں آنکارا کی سیاستیں عملی طور پر اس گٹھ بندھن کی کار کردگی کو شدید نقصان سے دوچار کر دیں گی ۔
دوسری طرف مصر کی حکومت بھی اندرونی اور بین الاقوامی دونوں سطح پر اپنی مقبولیت اور مشروعیت کے سلسلے میں کمزوری کا شکار ہے لہذا ایسا اتحاد تشکیل پانا کہ جو سعودی پالیسیوں کو جواز فراہم کر سکے فی الحال ممکن نہیں ہے ،ضمنا سیسی کی حکومت کے ملک سلمان کی طرف جھکاو کی وجہ بھی مصر کا اقتصادی بحران ہے ،اور مصر کا ملک کی سرحد سے باہر فوج بھیج کر کسی کی مدد کرنا اس بحران میں اضافے کا باعث ہو سکتا ہے ۔اس بنا پر شام کی جنگ میں مصر کی فوج کا شامل ہونا سعودیوں کا ساتھ دینے کے لیے بہت بعید معلوم ہوتا ہے ۔
بہر حال سعودی عرب ایک ایسا گٹھ بندھن بنانا چاہتا ہے کہ جس کے ہدف غائی کو دیکھتے ہوئے مشرق وسطی کے اس وقت کے سیاسی اور فوجی بازیگروں میں سے کوئی ایک بھی اس کے ترازو کے ایک پلڑے کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت کا مالک دکھائی نہیں دیتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲